حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف میں واقع حرم امام علی میں فلسفۂ انتظارِ فرج کے عنوان سے بین الاقوامی تجسمی فنون کی ایک اہم نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے 14 ممالک سے تعلق رکھنے والے 60 فنکاروں نے شرکت کی۔
حرم مبارک کی سرکاری ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ اس نمائش میں مصوری، معاصر و کلاسیکی خاکے، ڈیجیٹل آرٹ اور نایاب خطی نسخوں سمیت متنوع فن پارے پیش کیے گئے۔ اس نمائش کا بنیادی مقصد مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان وحدتِ کلمہ کو اجاگر کرنا اور امام مہدی (عج) کے ظہور کے انتظار کے تصور پر عالمی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
مرکز مطالعات تخصصی امام حسن (ع) کے مدیر سید کاظم الخرسان نے اس نمائش کو ایک ایسا وحدت آفریں پیغام قرار دیا جو سرحدوں سے ماورا ہے۔ ان کے بقول انتظارِ فرج کو ایک مشترکہ معنوی اور انسانی قدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو مختلف قوموں اور معاشروں کے درمیان فکری قربت کا سبب بن سکتا ہے۔
آثارِ قدیمہ و ثقافتی ورثہ یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالہادی الابراہیمی نے تہذیبوں کے مابین مکالمے کو مضبوط بنانے میں فن کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دین، فنکاروں کو گہرے اور بامعنی مضامین کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس تقریب کو اسلامی فن کا ایک عالمی تعارف قرار دیا جو بین الاقوامی روابط اور ثقافتی تبادلے کو وسعت دیتا ہے۔
بنیادِ فن و میڈیا "قاف" کے سربراہ نے بھی اپنے انٹرویو میں کہا کہ مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے شریک فنکار دراصل اپنے اپنے ملکوں کے ثقافتی سفیر کے طور پر شریک ہوئے۔ چین اور برازیل سمیت کئی ممالک کے فنکار پہلی مرتبہ عراق اور نجف اشرف آئے، جس سے اس نمائش کے عالمی دائرۂ اثر اور بین الاقوامی روابط کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ بین الاقوامی ثقافتی پروگرام نہ صرف فنونِ لطیفہ کا مظہر ہے بلکہ انتظارِ امام مہدی (عج) کے عالمی اور انسانی پیغام کو اجاگر کرنے کی ایک مؤثر کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ